بھٹکل:31/ جولائی(ایس او نیوز)حال ہی میں نئے طورپر بھٹکل بی جے پی پارٹی کی طرف سے تشکیل دی گئی تعلقہ کمیٹی کے متعلق بی جے پی پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ اتوار کو پریس کانفرنس کے ذریعے بی جے پی کے کچھ لیڈران نے پارٹی میں ہورہی سرگرمیوں کی کڑی تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ از خود بھٹکل بی جے پی تحفظ کمیٹی تشکیل دیں گے۔
بی جے پی کے بزرگ لیڈر اے این پائی نے پریس کانفرنس میں کہاکہ بی جے پی خود ساختہ لیڈران کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے، پارٹی سنگین حالات سے دوچار ہے، ایم پی اننت کمار ہیگڈے پارلیمان کے ممبر بننے سے پہلے ضلع میں ڈاکٹر یو چترنجن ، ایم پی کرکی ، کاگیری رکن اسمبلی کے طورپر منتخب ہوئے ہیں۔ بی جے پی کسی کے گھر کی جائیداد نہیں ہے، اننت کمار کی جیت کے لئے بنگارپا کی آمداور مودی لہر بھی ایک اہم وجہ ہونے کی بات کہتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ بینک، گرام پنچایت انتخابات میں جو لوگ 11ووٹ بھی حاصل کرنےکی سکت نہیں ہے ایسوں کو یہاں خوش آمد کہا جارہاہے۔ جن سنگھ کا اصل مقام منڈلی کے سوبومنے خاندان کو بالکل نظر انداز کیا جارہاہے۔ بی جے پی کے سب سے پہلے منڈلی گرام پنچایت کے صدر کے طورپر عہدہ سنبھالنے والے راجو نائک کو آج کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ابتداء سے ہی بی جے پی کے لئے جدوجہد کرنےو الے بائیلور کے کسان بلسے کی آج کوئی قیمت نہیں ہے، ہاڈولی علاقہ کے ناگیندر شٹی کی حالت بھی اس سے کچھ الگ نہیں ہے۔ حال ہی میں سنیل ، ایشور نائک جیسوں کو پارٹی میں شامل کیا گیاہے، لیکن 40سال سے ہندؤوں کے حق میں آواز بلند کرنے والے متالک جیسوں کو کوئی جگہ نہیں دینے کی بات کرتے ہوئےالزامات کی بوچھار کردی ۔
ایک اور بزرگ لیڈر ایم وی ہیبلے نے بات کرتے ہوئے کہاکہ 1978 کے زمانے سے میں بی جے پی میں ہوں ، بی جےپی میں چترنجن کے آدرش غائب ہوچکے ہیں ، بی جےپی ، کے جے پی ایک ہونے کے باوجود رنجش باقی ہے، تمام کو لے کر چلنے کا کام نہیں ہورہاہے۔ گذشتہ گرام پنچایت ، تعلقہ پنچایت ، ضلع پنچایت انتخابات میں شکست کے لئے پارٹی میں اتحاد کا نہیں ہونا ایک اہم وجہ ہے۔ کارکنوں کی بات کو کوئی بھی سننے والا نہیں ہے، انہوں نے انتباہ دیا کہ ہرایک اپنی من مانی کے مطابق ہم جیسوں کو نظر انداز کرتے ہوئے چلیں گے تو آئندہ دنوں میں پارٹی پھر ایک بار شکست سے دوچارہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی بی جے پی والے تھے آگے بھی بی جےپی میں ہی رہیں گے ۔ حالات کیسے بھی ہوں پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔ وکیل دتاتریہ نائک نے جالی پٹن پنچایت انتخابات کےدوران پارٹی لیڈران کی طرف سے برتے گئے سلوک و رویہ پر سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئےاعتراض جتایا۔ رویندر ، شیو کمار وغیرہ موجو د تھے۔